بلوچستان میں " فقہ اسلامی " کے فروغ و ارتقا٫ کا تحقیقی جائزہ
THE GROWTH AND DEVELOMPENT OF ISLAMIC JURISPRUDENCE IN BALOCHISTAN, A RESERCH-BASED STUDY
DOI:
https://doi.org/10.5281/zenodo.18049233Keywords:
Islamic Jurisprudence, Manuscripts, 20th Century, Balochistan.Abstract
Research-based review of the development and promotion of Islamic jurisprudence (Ilm al-Fiqh) in Balochistan during the twentieth century reveals that this century was truly a golden era for the growth and advancement of Islamic Fiqh. During this period, Fiqh achieved remarkable progress in the fields of teaching, education, research, and writing. The Fuqaha of this century wrote invaluable books on Fiqh, produced detailed commentaries and annotations on classical juristic texts, and compiled comprehensive collections of legal verdicts (Fatawa). These efforts not only fulfilled the religious needs of Muslim society, but also greatly contributed to the promotion of Islamic sciences and religious literature in local languages. The jurists of this era left behind numerous manuscripts and scholarly works that now stand as a lasting intellectual and juristic heritage, forming a rich source of knowledge. it remains our religious and national duty to introduce, preserve, and disseminate it. The Ulama wrote important works in Arabic, Persian, Urdu, Pashto, Balochi, and Brahui on a variety of subjects and disciplines. In the form of manuscripts and drafts, this body of knowledge presents religious solutions to the social, cultural, and economic issues of the region.
References
۱ السبکی،محمد عبد الطیف و محمد محی الدین عبد الحمید،المختار من صحاح اللغۃ، بیروت، لبنان، دار السرور،۱۳۵۳ ھ،باب الفاء ص ۴۰۰
۲ محمد فوأد عبد الباقی، المعجم المفھر س لالفاظ القرآن الکریم،باب الفاء،تہران،انتشارات اسلامی،۱۳۷۴ ھ، ص: ۶۵۰
۳ محب اللہ ابن عبد الشکور،بشرح مسلم الثبوت،لکھنو،منشی نول کشور،طبع ۱۹۰۳ ء، ص ۷
۴ سلطنت عثمانیہ کے قوانین کے مجموعے کانام، مجلۃ الاحکام العدلیہ کی تالیف ۱۲۹۳ھ /۱۸۷۶ ء میں مکمل ہوئی۔ یہ دولت عثمانیہ نے قانون مدنی کی ضابطہ بندی کے لئے ماہرین فقہاء جس میں ابن عابدین شامی بھی شامل تھے، ناظم محکمہ احکام عدلیہ احمد جودت پاشا کی سربراہی میں سر انجام دی گئی یہ مجلۃ الاحکام العدلیہ کے نام سے شائع ہو گیا۔۱۹۱۸ء تک یہی قوانین مجلہ دولت عثمانیہ کی عدالتوں میں رائج رہے اور حجاز، شرقِ اردن،شام، عراق،مصر اور سوڈان میں اسی کے مطابق فیصلے کئے جاتے رہے۔(ڈاکٹر صبحی محمصانی،فلسفہ التشریع فی الاسلام ص۸۶)
۵سلیم رستم باز، شرح المجلۃ،المقالۃ الاولیٰ،بیروت، لبنان،دارا لاحیاء التراث العربی، طبع ثالثہ ۱۳۰۵ھ،ص ۱۶
۶المحمصانی، صبحی، محمصانی،فلسفۃ التشریع الاسلامی، اردو ترجمہ بنام: فلسفہ شریعت اسلامم، مترجم:احمد رضا اعظمی، لاہور، شیخ محمد بشیر اینڈ سنز اردو بازار، ص۱۸
۷التھا نوی، محمد علی، علامہ، کشاف اصطلاحاتِ الفنون ، الجز ٫ الاول، بذیل مقدمہ، علم الفقہ،بیروت،مکتبہ لبنان ناشرون،طبعۃ الاولیٰ ۱۹۹۶ء ص۱۸
۸حوالہ سابقہ، الجزء الاول، ص ۴۰،
۹محب اللہ،بشرح مسلم الثبوت ،کوئٹہ، مکتبہ فخریہ کانسی روڈ،۱۹۴۹ء، ص۶
۱۰التھانوی محمد علی،کشاف اصطلاحات الفنون، الجز ٫ الاول، بذیل مقدمہ، علم الفقہ، صفحہ ۴۰/علامہ محب اللہ، بشرح مسلم الثبوت، کوئٹہ مکتبہ فخریہ کانسی روڈ ۱۹۹۶،ص ۶
۱۱ محمد علی التھانوی، کشاف اصطلاحاتِ الفنون، الجز ٫ الاول، بِذیل مقدمہ، علم الفقہ،بیروت، لبنان ناشرون،۱۹۹۶، صفحہ ۴۰
۱۲الغزالی، أبی حامد محمد بن محمد،الامام، احیاء علوم الدین، مکۃ المکرمۃ، الناشر مکتبۃ نزار مصطفی الباز، الطبعۃ الاولیٰ ۱۴۲۵ھ /۲۰۰۴م، ص۴۸
۱۳تفتا زانی، سعد الدین، توضیح و تلویح،کوئٹہ، مکتب رشیدیہ، ۱۹۹۲ء، ص: ۲۵
۱۴اس بارے میں ہم امام غزالیؒ کی ایک عبارت بحوالہ احیاء العلوم پچھلے صفحات میں نقل کرچکے ہیں مزید اس بارے میں احیاء العلوم، کتاب العلم ملاحظہ کیاجائے، فلیراجع
۱۵نعمانی، شبلی، الغزالی، کراچی، دارالاشاعت، طبع اول، ۱۴۱۲ھ، ص۱۳۶
۱۶التھانوی، محمد علی،کشاف اصطلاحاتِ الفنون والعلوم، الجزء الاول، بیروت، مکتبہ لبنان ناشرون،۱۹۹۶، ص ۱۴۔۴۲
۱۷محمصانی،صبحی، فلسفۃ التشریع الاسلامی، ص ۲۰/اتاسی، محمد خالد، شرح مجلہ، ترجمہ مفتی امجد علی، اسلام آباد، ادارہ تحقیقاتِ اسلامی الجامعۃ الاسلامیۃ العالمیۃ، طبع اول، ۱۹۸۶ء، ص۴
۱۸براہوئی ، عبدالرحمن ، ڈاکٹر، بلوچستان میں دینی ادب ، ناشر ، براہوئی اکیڈمی ، پاکستان کوئٹہ ، ۲۰۱۸
۱۹مقالہ نگار کا تحقیقی سرگرمی کے نتیجہ میں حاصل شدہ معلومات کا بیان یہاں درج کیا گیا ہے
۲۰یہ مخطوطہ جناب پروفیسر عبد الکریم عا مر (لورالائی) کے کتب خانے میں موجود ہے اور ہماری نظر سے گزرا ہے
۲۱موصوف کے صاحبزادے ڈاکٹر عطاء الرحمن کا مقالہ نگار کے نام مکتوب اور زبانی انٹرویو کے مطابق تفصیلات درج کی گئی ہیں۔
۲۲تذکرہ نویسوں نے آنجناب کے ان آثار کا ذکر کیا ہے مگر یہ آثار اب تک غیر مطبوعہ ہیں ۔
۲۳حافظ، خان محمدؒ، دَکسے گلان، مقدمہ، کوئٹہ، بلوچستان بک ڈپو مسجد روڈ،۱۹۸۹ء۔
۲۴سیال کاکڑ، ولی محمد، پشتانہ لیکوال، ج۲، کوئٹہ، بولان بک کارپوریشن، ص۲۲۲
۲۵مولوی رحمت اللہ، مولوی عبیداللہ اور مولانا سید علاؤالدین کی یہ تصانیف مخطوطہ صورت میں ہیں ۔
۲۶لہڑی ، عبدالباری، مکتبہ درخانی کی علمی و دینی خدمات کا جائزہ ، ناشر:براہوی اکیڈمی کوئٹہ ۲۰۱۵، ص : ۶۵
۲۷براہوئی ، عٍبدالرحمن ، ڈاکٹر ، براہوئی زبان و ادب کی مختصر تاریخ، ناشر: براہوئی اکیڈمی کوئٹہ۲۰۱۴ ،ص ۲۵
۲۸رودینی، یوسف، ڈاکٹر ، مکتبہ درخانی کی علمی و ادبی خدمات کا تجزیاتی جائزہ، ناشر: براہوئی اکیڈمی کوئٹہ، ۲۰۲۳، ص: ۲۴۴ ۔ ۲۵۸
۲۹حبیبی، عبدالحئ، علامہ، تاریخ ادبیات پشتو، پشاور، دانش خپرندویہ ٹولنہ، ۲۰۰۵ ٫، جلد دوئم، ص : ۵۲۵
۳۰،محمد ہوتک، پٹہ خزانہ، کابل افغانستان، دارالتالیف ریاست، طبع دوئم ۱۳۳۹ ھ، ص ۸۹
Published
How to Cite
License
Copyright (c) 2024 AL MISBAH RESEARCH JOURNAL

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.
AL-MISBAH Research Journal is full open access and licensed under Creative Commons Attribution 4.0 International License; and Published by: Research Institute of Culture & Ideology (REINCI), Islamabad, Pakistan. This allows the research community and the general public to gain unlimited, free and immediate access to scholarly articles, and to reuse the content freely provided that proper attribution is given to the original authors.




